21اپریل علامہ سر محمد اقبال کا یوم وفات ہے ۔ وہ اقبال جنہیں مصوّرِ پاکستان اور مفکرِ پاکستان کہا جاتا ہے ۔ جن کے اشعار نے ایک شکست خوردہ قوم کے تنِ مردہ میں زندگی کی روح پھونک دی۔ وہ ایک غلام قوم کے ایسے فرد تھے جسے اعلیٰ تعلیم اور بہترین تخلیقی صلاحیتوں کی بنا پر ملک کے اندر اور باہر ترقی کے تمام مواقع میسر تھے ۔ لیکن وہ 1908 میں یورپ سے لوٹ آئے ۔ اپنے معاش کے لیے انہوں نے وکالت کا پیشہ ضرورت کی حد تک اختیار کیا اور اپنی توانائی اور صلاحیتیں قوم کے لیے وقف کر دیں ۔ ستارہ صبح کا روتا تھا اور یہ کہتا تھاملی نگاہ مگر فرصتِ نظر نہ ملی ہوئی ہے زندہ دمِ آفتاب سے ہر شےاماں مجھی کو تہِ دامنِ سحر نہ ملی بساط کیا ہے بھلا صبح کے ستارے کینفس حباب کا تابندگی شرارے کی کہا یہ میں نے کہ اے زیورِ جبینِ سحرغم فنا ہے تجھے گنبد فلک سے اتر ٹپک بلندی گردوں سے ہمراہ شبنممرے ریاضِ سخن کی فضا ہے جاں پرور میں باغباں ہوں محبت بہار سے اس کیبنا مثال ابد پائدار ہے اس کيشاعر مشرق علامہ اقبال نے اپنی شاعری سے نوجوان نسل میں انقلابی روح پھونکی اور اسلامی عظمت کو اجاگر کیا۔ نو نومبر اٹھارہ سو ستتر کو پیدا ہونے والے شاعر مشرق علامہ اقبال حساس دل و دماغ کے مالک تھے ۔آپ کے بیٹے جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ ساٹھ سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود ان کے والد کے افکار ونظریات اور بااصول زندگی ان کے لئے مشعل راہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ نے اپنی شاعری کے ذریعے لوگوں میں اپنے حقوق حاصل کرنے کا ولولہ بیدارکیا۔ کلام اقبال کو اقوام عالم میں بڑی پذیرائی حاصل ہے اور ان کے افکار کو سمجھا جاتا ہے ان کی کئی کتابوں کے انگریزی، جرمنی ، فرانسیسی، چینی، جاپانی اور دوسری زبانوں میں ترجمے ہو چکے ہیں۔ فکرِ اقبال کے حوالے سے شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ اقبال کا شمار اسلامی دنیا کی اہم قد آور شخصیتوں میں ہوتا ہے ۔ اُنیسویں صدی میں دنیائے اسلام میں آنے والے سیاسی زوال کی کیفیت اور معاشرتی زبوں حالی، جس کا بھر پور فائدہ اُٹھاتے ہوئے مغربی سامراج نے اسلامی دنیا اور خصوصاً بّرصغیر جنوبی ایشیا میں مسلمانوں کے باہمی نفاق کا قرار واقعی فائدہ اُٹھاتے ہوئے دنیائے اسلام میں اپنی حکمرانی کے گہرے پنجے گاڑھ دیئے تھے ۔ یہ درست ہے کہ اقبال کی پیغامی شاعری اور فکری صلاحیتیں اوائلِ عمر میں ہی اُبھر کر سامنے آنے لگی تھیں لیکن اقبال میں چھپے ہوئے فلسفیانہ خیالات کو ایک انگریز پروفیسر سر تھامس آرنلڈ نے اُس وقت پہچانا جب اقبال گورنمنٹ کالج لاہور میں آئے۔ پروفیسر آرنلڈ نے نوجوان اقبال میں موجود اِن فکری تخلیقات کو مہمیز دیتے ہوئے اُنہیں ڈاکٹر آف فلاسفی کی اعلیٰ ڈگری کی تعلیم کےلئے باہر جانے کا مشورہ دیا ۔ ڈاکٹر علامہ اقبال نے بالآخر ڈاکٹریٹ کی یہ ڈگری حاصل کی لیکن یورپی معاشرتی ماحول میں بیرونی تعلیم حاصل کرنے کے باوجود فکر اقبال پر پیغمبر اسلام (ص) کی زندگی اور قرانی تعلیمات کا اثر غالب رہا۔ اُنہوں نے اپنی اُردو اور فارسی شاعری کے ذریعے تعلیم یافتہ مسلمانوں کےلئے ایک فلسفیانہ نظریہ مہیا کر دیا اور اُن میں دینی اور ملّی رجحان پیدا کر دیا۔ یوں تو اُنکی ہردلعزیزی اُن کے کمالِ شاعری کی وجہ سے تھی لیکن اِس کا ایک بڑا سبب یہ بھی تھا کہ وہ مسلم ذہن کی اُس ضرورت کو پورا کر رہے تھے کہ اُسے اپنے لئے ایک لنگر مل جائے “ ۔ مسلمانوں کی فکرِ ی جہت کو بیدار کرنے اور اُنہیں ایک لڑی میں پرونے والے علامہ اقبال ہی تھے جس کا اظہار اُن کے کلام میں بھی جا بجا ملتا ہے ۔قلب میں سوز نہیں ، روح میں احساس نہیں کچھ بھی پیغامِ محمد (ص) کا تمہیں پاس نہیں فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں چاہتے سب ہیں کہ ہوں اوجِ ثریا پہ مقیم پہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلبِ سلیمکوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیں ڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں آج بھی ہو جو براھیم (ع) کا ایماں پیدا آگ کر سکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے دہر میں اسمِ محمد (ص) سے اُجالا کر دے کی محمد(ص) سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں وقتِ فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہے نورِ توحید کا اِتمام ابھی باقی ہےحضرت اقبال مغربی جامعات میں اکتسابِ علم کیلئے ضرور گئے لیکن مغربی تہذیب و اخلاق ان پر اثر انداز نہ ہو سکا۔ جنکی آنکھوں میں مدینہ و نجف کی خاک کا سرمہ ہو ان کو تہذیبی فسوں کاری خیرہ نہیں کر سکتی۔ وہ مصطفوی، مرتضوی تھے۔ مغربی تہذیب سے بےزاری کا اظہار واشگاف الفاظ میں کرتے ہیں۔دیار ِ مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہےکھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ زر اب کم عیار ہوگاتمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گیجو شاخ نازک پر بنے گا آشیانہ ناپا ئیدار ہوگا بیداری ملت اسلامی کے لئے لکھتے ہیں: اُٹھ کہ ظلمت ہوئی پیدا افق ِ خاور پربزم میں شعلہ نوائی سے اجالا کردیںشمع کی طرح جئیں بزم گہ عالم میںخود جلیں دیدہ اغیار کو بینا کر دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
20 اپریل 2013 - 19:30
News ID: 411518
حضرت اقبال مغربی جامعات میں اکتسابِ علم کیلئے ضرور گئے لیکن مغربی تہذیب و اخلاق ان پر اثر انداز نہ ہو سکا۔ جنکی آنکھوں میں مدینہ و نجف کی خاک کا سرمہ ہو ان کو تہذیبی فسوں کاری خیرہ نہیں کر سکتی۔ وہ مصطفوی، مرتضوی تھے۔